ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آئی ایم ایف کی سربراہ پر مجرمانہ غفلت کا الزام ثابت

آئی ایم ایف کی سربراہ پر مجرمانہ غفلت کا الزام ثابت

Wed, 21 Dec 2016 12:19:05    S.O. News Service

واشنگٹن ،20؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)فرانس کی ایک عدالت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی سربراہ کرسٹین لگارڈ کو فرانس میں اپنے دورِ وزارت کے دوران سرکاری رقم کے غلط استعمال کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ اپنے فیصلے میں مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے ججوں نے قرار دیا ہے کہ چوں کہ فرانس کی سابق وزیرِ خزانہ اس وقت بین الاقوامی مالیاتی بحران سے نبٹنے میں مصروف تھیں جس کے باعث ان کی اس مجرمانہ غفلت پر انہیں کوئی سزا نہیں سنائی جارہی۔کرسٹین لگارڈ پر الزام تھا کہ انہوں نے معروف کاروباری شخصیت اور 'ایڈیڈاس' کمپنی کے مالک برنارڈ ٹاپئی کو سرکاری خزانے سے لگ بھگ 42کروڑ ڈالر کی رقم بطور ہرجانہ دلانے میں مدد کی تھی۔برنارڈ ٹاپئی نے فرانس کے ایک نیم سرکاری بینک کے خلاف 1993ء سے ہرجانے کا مقدمہ دائر کر رکھا تھا جسے کرسٹین لگارڈ نے بطور وزیرِ خزانہ 2007ء میں فیصلے کے لیے ایک تین رکنی نجی مصالحتی کمیشن کو بھجوایا تھا۔کمیشن نے برنارڈ ٹاپئی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے انہیں 42کروڑ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا تھا جس کی فرانسیسی حکومت نے تعمیل کی تھی۔ اپنے فیصلے میں مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے کرسٹین لگارڈ کی جانب سے برنارڈ ٹاپئی کا مقدمہ نجی کمیشن کو بھیجنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار نہیں دیا البتہ عدالت نے کہا ہے کہ بطور وزیرِ خزانہ فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرکے کرسٹین لگارڈ مجرمانہ غفلت اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کی مرتکب ہوئی ہیں۔سماعت کے دوران لگارڈ نے موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کیوں کہ وہ 15سال سے جاری عدالتی جنگ کا خاتمہ چاہتی تھیں جس پر فرانسیسی حکومت پہلے ہی بہت رقم خرچ کرچکی تھی۔عدالت کی جانب سے کرسٹین لگارڈ کو سزا نہ سنائے جانے کے باعث بظاہر آئی ایم ایف کی ان کی ذمہ داری کو کوئی خطرہ نہیں۔ البتہ آئی ایم ایف کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ادارے کا ایگزیکٹو بورڈ پیر کو ہونے والے اجلاس میں فرانسیسی عدالت کے فیصلے پر غور کرے گا۔کرسٹین لگارڈ نے 2011ء میں آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالا تھا اور انہیں رواں سال فروری میں ادارے کے ارکان نے دوبارہ منتخب کیا تھا۔


Share: